آج کی شاعری |  اداس شاعری دوست|  تنہائی شاعری




زندگی اک فریب پیہم ہے
مسکرا کر فریب کھاتا جا

روشنی قرض لے کے ساقی سے
سرد راتوں کو جگمگاتا جا

کثرتِ لطف بھی...
اک ظُلم کی صورت ہے عدم...!

تیز خُوشبو کی مہک...
آگ لگا جاتی ہے...!!

تُو نہیں جانتا...
تکلیف کسے کہتے ہیں...!

تو نے الفاظ کے نشتر کو...
سہا ہی کب ہے...!!

ہمارے کمرے میں اس کی..!
یادیں نہیں ہیں فاضل..!!


کہیں کتابیں کہیں رسالے..!
پڑے ہوئے ہیں..!!!




‏ﯾﮧ ﺑﻬﯽ ﺍﭼﻬﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻫﻢ ﺍﭼﻬﮯ نہیں ﮨﯿﮟ ﻏﺎﻟﺐ ۔۔۔​​​​ 💕

​​​​ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﻫﻢ ﺳﮯ ﺑﭽﻬﮍﻧﮯ ﮐﮯ بعد❤




مجھ سے پہلے بھی تھا کوئی اس کا🥀...!

وہ میرے بعد بھی کسی اور کی ہے💔...!



تُو آسمانِ بخت کو چُھوتی ہوئی سحر
میں دشتِ حادثات میں غُربت کی شام ہوں.

تو کہ وہ تیز ہوا جس کی تمنا بے سود
میں کہ وہ خاک جسے خود ہی بکھر جانا تھا......




یوں نہ کہو کہ قسمت کی بات ہے

میری تنہائی میں کچھ تمہارا بھی ہاتھ ہے




*اک عمر وہ تھی کہ جادو پر بھی یقین تھا*

*اک عمر یہ ہے کہ حقیقت پربھی شک ہے*


میرے نصیبِ شوق میں لکھا تھا یہ مقام
ہر سو تیرے خیال کی دنیا ہے، تُو نہیں...



 

یہی تو عالم ہے میری خوش مجازی کا

گھر میں ہر شخص سے اُلجھتا ہوں میں



جیسے پھولوں میں ایک پھول کو گلاب کہتے ہیں
ایک حسین صبح کی امید میں ہم آپ کو آداب کہتے ہیں




گفتگو دھڑکن کی ہو یا لبو کی بات ضروری نہیں

جہاں خاموشی بولتی ہو وہاں الفاظ ضروی نہیں